ابنا:
مہمند ایجنسی میں دو بم دھماکوں میں اب تک 42 افراد ہلاک ہوچکے ہیں پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں دو خودکش دھماکوں میں 42 افراد ہلاک جبکہ سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں، حملے کی ذمہ داری طالبان دہشت گردوں نے قبول کرلی ہے۔ مہمند ایجنسی کی انتظامیہ کے مطابق یہ دھماکے غلنئی میں واقع پولیٹیکل انتظامیہ کے دفتر کے باہر ہوئے ہیں۔حکام کے مطابق دو حملہ آوروں میں سے ایک نے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر کے باہر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جبکہ دوسرے کو سکیورٹی اہلکاروں نے گیٹ پر روکا جہاں اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دونوں حملہ آور خاصہ داروں کے یونیفارم میں ملبوس تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو صحافی اور دو قبائلی رہنما شامل ہیں جبکہ ایک اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ زخمی ہوئے ہیں۔ادھر دہشت گرد تحریک طالبان پاکستان کے مہمند ایجنسی کے سربراہ عمر خالد نے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ یہ کارروائی چند ماہ پہلے ان کے عرب ساتھیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشن اور ان کی گرفتاری کے خلاف کی گئی ہے۔واضح رہے چند روز پہلے مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی میں سکیورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری بھی اسی ٹولے نے قبول کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے حملے جاری رہیں گے۔دریں اثناء مہمند ایجنسی دھماکے کے 30 زخمی پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ جن میں دو کی حالت تشویشناک ہے۔ میڈیل سپریڈینڈنٹ لیڈی ریڈنگ اسپتال ڈاکٹر رحیم آفریدی نے جیونیوز کو بتایا کہ مہمند ایجنسی میں ہونے والے دھماکے کے 37زخمیوں کو اسپتال لایا گیا۔ جن میں ایک زخمی چل بسا جبکہ 6 کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا ہے۔
طالبان علم و دانش کے دشمن:باجوڑ ایجنسی میں طالبان شدت پسندوں نےمزید دو اسکولوں کوتباہ کردیا ہے پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کی تحصیل خار میں طالبان شدت پسندوں نےمزید دو اسکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیاہے۔ ذرائع کے مطابق رات گئے طالبان شدت پسندوں نے باجوڑ ایجنسی کی تحصیل خار کے علاقے پلنگ میں بوائز پرائمری اسکول کی عمارت کو دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کردیا جس کے نتیجے میں اسکول کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ ادھر تحصیل خار کے علاقے علیزوڈاگ میں بھی طالبان شدت پسندوں نے گرلز پرائمری اسکول کی عمارت کو دھماکے سے اڑادیا۔سوات میں سرچ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کا فورسز پرحملہ، 3 شدت پسند ہلاک سوات میں سرچ آپریشن کے دوران شدت پسندوں نے فورسز پر حملہ کردیا جوابی کارروائی میں تین شدت پسند ہلاک ہوگئے ۔کوہاٹ اور ہنگو میں سرچ آپریشن میں50 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیاگیا۔سوات کی تحصیل مٹہ کے علاقے شکر درہ میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن کیا اس دوران شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کردی۔فورسز کی جوابی کارروائی میں تین شدت پسند مارے گئے۔ڈی پی او کوہاٹ دلاور خان کے مطابق کوہاٹ کے نواحی علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران چھ مبینہ شدت پسند گرفتار کر لیے گئے ۔گرفتار ہونے والے شدت پسندوں کے قبضے سے ا سلحہ بھی برآمدہوا ہے ۔ادھرہنگو میں سرچ آپریشن کے بعدپچاس سے زاید مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کیلئے نا معلوم مقام پر منتقل کردیاگیا ہے۔
.........
/110